Showing posts with label Articles. Show all posts
Showing posts with label Articles. Show all posts

22 January, 2013

جشن عید میلاد النبی بدعت نہیں

جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم
کیا قران مجید میں نبیوں کی ولادت کا ذکر مبارک موجود ہے؟
جی! مخصوص دن کے ذکر کے ساتھ موجود ہے؟ یاد رہے! مخصوص ولادت کے دن کا بھی
قرآن مجید میں حضرت یحیٰ علیہ السلام کی ولادت کے یوم کا ذکر ان الفاظ میں ہے
سورۃ مریم (15) اور سلامتی ہے اس پر جس دن پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اور جس دن مردہ اٹھایا جائے گا

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان مبارک سے ان کے اپنے میلاد کا ذکر یوں ہے۔
سورۃ مریم (33) اور وہی سلامتی مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں

قرآن پاک میں عید کا تصور کیا ہے؟
قرآن پاک میں عید کا ذکر کچھ یوں ہے۔
قَالَ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ اللَّهمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَة مِّنَ السَّمَاء تَكُونُ لَنَا عِيداً لاِوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَة مِّنكَ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ ﴿114﴾
سورۃ المائدہ (114) عیسیٰ بن مریم نے عرض کی، اے اللہ! اے رب ہمارے ! ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے ،
یعنی اللہ جل جلالہ کی ایک نعمت کو عید کہا گیا

20 January, 2013

عید میلادالنبی صلي الله عليه وآله وسلم

قرآن مجید میں حضرت یحیٰ علیہ السلام کی ولادت کے یوم کا ذکر ان الفاظ میں ہے
سورۃ مریم (15) اور سلامتی ہے  اس پر جس دن پیدا ہوا اور جس دن مرے  گا اور جس دن مردہ اٹھایا جائے  گا 
 حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان مبارک سے ان کے اپنے میلاد کا ذکر یوں ہے۔
سورۃ مریم (33) اور وہی سلامتی مجھ پر  جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں
قرآن پاک میں عید کا ذکر کچھ یوں ہے۔
سورۃ المائدہ  (114) عیسیٰ بن مریم نے  عرض کی، اے  اللہ! اے  رب ہمارے ! ہم پر آسمان سے  ایک خوان اُتار کہ وہ ہمارے  لیے  عید ہو  ہمارے  اگلے  پچھلوں کی   اور تیری طرف سے  نشانی  اور ہمیں رزق دے

11 November, 2012

آج ہمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نقشِ قدم پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے

پریس۔رپورٹ : موجودہ جمہوریت ایک دغا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور مثالی تھا۔ ان خیالات کا اظہارعلامہ مفتی محمد ارشدالقادری نے فتوحاتِ فاروقی کے عنوان پر خطبہ دیتے ہوئے کیا۔ وہ گیارہ نومبر بروز اتوار کو جامعہ اسلامیہ رضویہ مرکز تعلیم و تربیت میں ماہانہ اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہمیں حضرت عمر  رضی اللہ عنہ کے نقشِ قدم پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ مفتی صاحب نے کہاکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے جو کام کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔
چیدہ چیدہ نوٹس
 از قلم: عبدالرزاق قادری

ماہ ذی الحج کی ۲۸ یا محرم الحرام کی یکم کو امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی۔ جنگِ قادسیہ کے حوالے سے چند گزارشات کرتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انبیاء کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑے انسان اور سب سے عظیم منتظم ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حضرت ابوبکر اعلیٰ درجے پر تھے۔ ان کا تیقن، ان کا تقویٰ اور ان کا سکینہ بے مثال تھا۔ حضرت ابوبکر کا طریق تھا کہ ایک بندے کے ذمہ کوئی ذمہ داری لگا کر دوبارہ باز پُرس نہ فرماتے بلکہ وہ آدمی خود ہی اس کام کو سر انجام دیتا۔ جبکہ حضرت عمر باز پُرس فرماتے۔ دوسرے افراد کے ذریعے نگرانی کرواتے، اطلاع منگواتے اور اگر کام ٹھیک نہ ہوتا تو معطل فرما دیتے۔ آپ کے اس طرزِ عمل پر مؤرخین کی مختلف آراء ہیں۔ میں کتب تواریخ مثلاً البدایہ والنھایہ ، طبری، محمد حسین ہیکل ، نواز احمد، شبلی، ابن خلدون اور سلیمان بلند پوری کے مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ حضرت عمر کا ہر فیصلہ ہی حق تھا۔آپ کا انداز سب سے زیدہ مؤثر رہا۔ اگرچہ اس میں سختی چھلکتی تھی۔ لیکن ہر فیصلہ حق تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے کہ حضرت ابوبکر کے وقت تک اسلامی خلافت کا رقبہ دس لاکھ مربع میل تھا۔ اور عہد فاورقی کے بعد چھبیس لاکھ مربع میل، یعنی سولہ لاکھ مربع میل کا اضافہ ہوا۔ انبیاء کے بعد اتنا بڑا حکمران کسی ماں نے پیدا ہی نہیں کیا۔ آپ فرماتے تھے ۔ جماعت کے بغیر

21 October, 2012

حرمت رسول

حرمت رسول

حرمتِ رسول کا مفہوم اپنے اندر وسیع معانی و مطالب رکھتا ہے۔ عربی قاموس "تاج العروس" کے مطابق لفظ الحُرمہ ، الحُرُمہ اور الحَرَمہ کامطلب "ایسی عزت جو اللہ کسی کو عطا کرے اُس کا انکار گناہ کے زمرے میں آتا ہے اور اُس کو مانا لازم ہے انکارکرنا ارتکابِ حرام ہے" جمہور کا مذہب ہے کہ کسی عمل کو حرام قرار دینے کے لیے اُس کا نصِ قطعی اور ظنی الدلالہ سے ثابت ہونا ضروری ہے۔ جب کہ امامِ اعظم کا مذہب یہ ہے کہ اس کے لیے نصِ قطعی کے ساتھ ساتھ قطعی الدلالہ ہونا بھی ضروری ہے۔ جمہور واجب کو فرض قرار دیتے ہیں جبکہ امام اعظم کے نزدیک دلیل قطعی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ تب فرض قرار پاتا ہے۔ اور اُس کا انکار حرام ہے۔ حرمت رسول مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ مفتی محمد ارشدالقادری نے حرمت رسول کا تحفظ ہر مسلمان کا فرض قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک اجتہاد مسائل کا ہوتا ہے جیسا کہ یہ عمل فرض ہے واجب ہے یا حلال ہے، مکروہِ تحریمی ہے یا تنزیہی وغیرہ۔ عقائد میں اجتہاد نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانیں نصِ قطعی یعنی قرآن(سورۃ فتح کی آیت 8 اور 9 ﴿7﴾ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ﴿8﴾ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّه وَرَسُولِه وَتُعَزِّرُوه وَتُوَقِّرُوه وَتُسَبِّحُوه بُكْرَة وَأَصِيلًا ((8) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا (9) تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو ) ) سے بغیر کسی دلیل کے ثابت ہے۔ اور اسے فرض نہ ماننا، اور فرض کا انکار کرنا کفر ہے۔

14 October, 2012

اجتماع, حرمتِ رسول, حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اُس کے تقاضے, عظمتِ رسول, لاہور, پریس رپورٹ


بسم اللہ الرحمن الرحیم

۲۶ ذیقعد ۱۴۳۳ بمطابق14 اکتوبر 2012 بروز اتوارکو مرکزِ تعلیم و تربیت جامعہ اسلامیہ رضویہ( شاہ خالد ٹاؤن ، فیروزوالہ، نزد گورنمنٹ انٹر کالج فیروزوالہ) ایک عظیم الشان تربیتی اور روحانی اجتماع بعنوان " حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اُس کے تقاضے "ہوا۔ جسے علامہ مفتی محمد ارشد القادری کی زیرِ صدارت تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان نے منعقد کیا۔اجتماع میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ جس میں ایک کثیر تعداد علماء اسلام ، ائمہ مساجد اور تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان کے مبلغین کی تھی۔ اس موقع سب حضرات نے حرمتِ رسول اور عظمتِ رسول کے لیے ہر طرح کی قربانی کا پختہ عزم کیا۔ اور دین کی ترویج و اشاعت کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔ اپنی جان و مال کی قربانی دینے کا دعویٰ کیا۔ اور دین کے اوامر و نواہی پر عمل پیرا ہونے کے ارادے باندھے۔

08 October, 2012

Hurmat e Rasool aur us k taqaazay

امریکن فلم ساز کی گستاخی کا جواب دینے کے لیے،
 اُمتِ مسلمہ کی وحدت اور قوت دکھانے کے لیے،
اپنے نبی پاک کی شان سننے کے لیے،
 کافروں کے مقابلے میں اپنی ترقی کا راز جاننے کے لیے،
محبتِ رسول کی شمع سے روشنی پانے کے لیے،
 حرمتِ رسول کے تقاضے جاننے کے لیے،
تشریف لائیں اُس ہستی کے پاس،
 جس نے بتیس سال قوم و ملت کی فلاح کے لیے اذان دی،
خدمتِ دین میں زندگی گزار دی،