تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام ماہانہ روحانی تربیتی اجتماع مرکز تعلیم و تربیت جامعہ اسلامیہ رضویہ میں ان شاءاللہ 13 جنوری 2013 بروز اتوار کو منعقد ہو گا۔ جس میں مفتی اعظم پاکستان علامہ مولانا محمد ارشد القادری کا خصوصی خطاب ہو گا اور حسب روایت تلاوت قرآن مجید، نعت خوانی اور تعلیم و تربیت اسلامی کے مبلغین اور دیگر علماء کرام کے بیانات ہوں گے۔
Unity, Serve and Stability is the Manifesto of Taleem o Tarbiyat Islami Pakistan
05 January, 2013
11 November, 2012
قوت ایمانی صداقت اور عشق مصطفی کے زور سے پھیلا
اسلام تلوار کے زور پر نہیں، قوت ایمانی صداقت اور عشق مصطفی کے زور سے پھیلا: مفتی محمد ارشد القادری
لاہور (پ ر) جامعہ اسلامیہ رضویہ مرکزی تعلیم و تربیت اسلامی کے ماہانہ تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مفتی محمد ارشد القادری نے کہا کہ حضرت عمرؓ کا دور مثالی دور تھا اور صحابہؓ کے دور میں جتنا بھی اسلام پھیلا ہے تلوار کے زور سے نہیں بلکہ قوت ایمانی، صداقت اور عشق مصطفی سے پھیلا ہے۔ انہوں نے موجودہ جمہوریت کو ایک دھوکہ اور فراڈ قرار دیا۔ آج ہمیں حضرت عمرؓ کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے۔
Labels:
NEWS
آج ہمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نقشِ قدم پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے
پریس۔رپورٹ : موجودہ
جمہوریت ایک دغا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور مثالی تھا۔ ان خیالات کا
اظہارعلامہ مفتی محمد ارشدالقادری نے فتوحاتِ فاروقی کے عنوان پر خطبہ دیتے ہوئے
کیا۔ وہ گیارہ نومبر بروز اتوار کو جامعہ اسلامیہ رضویہ مرکز تعلیم و تربیت میں
ماہانہ اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نقشِ قدم پر عمل پیرا
ہونے کی ضرورت ہے۔ مفتی صاحب نے کہاکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے جو کام کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔
چیدہ چیدہ نوٹس
از قلم: عبدالرزاق قادری
ماہ ذی الحج کی ۲۸ یا محرم الحرام کی یکم
کو امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی۔ جنگِ قادسیہ کے حوالے سے چند
گزارشات کرتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انبیاء کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ
سب سے بڑے انسان اور سب سے عظیم منتظم ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حضرت ابوبکر
اعلیٰ درجے پر تھے۔ ان کا تیقن، ان کا تقویٰ اور ان کا سکینہ بے مثال تھا۔ حضرت
ابوبکر کا طریق تھا کہ ایک بندے کے ذمہ کوئی ذمہ داری لگا کر دوبارہ باز پُرس نہ
فرماتے بلکہ وہ آدمی خود ہی اس کام کو سر انجام دیتا۔ جبکہ حضرت عمر باز پُرس
فرماتے۔ دوسرے افراد کے ذریعے نگرانی کرواتے، اطلاع منگواتے اور اگر کام ٹھیک نہ
ہوتا تو معطل فرما دیتے۔ آپ کے اس طرزِ عمل پر مؤرخین کی مختلف آراء ہیں۔ میں کتب
تواریخ مثلاً البدایہ والنھایہ ، طبری، محمد حسین ہیکل ، نواز احمد، شبلی، ابن
خلدون اور سلیمان بلند پوری کے مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ حضرت عمر
کا ہر فیصلہ ہی حق تھا۔آپ کا انداز سب سے زیدہ مؤثر رہا۔ اگرچہ اس میں سختی چھلکتی
تھی۔ لیکن ہر فیصلہ حق تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے کہ حضرت ابوبکر کے
وقت تک اسلامی خلافت کا رقبہ دس لاکھ مربع میل تھا۔ اور عہد فاورقی کے بعد چھبیس
لاکھ مربع میل، یعنی سولہ لاکھ مربع میل کا اضافہ ہوا۔ انبیاء کے بعد اتنا بڑا
حکمران کسی ماں نے پیدا ہی نہیں کیا۔ آپ فرماتے تھے ۔ جماعت کے بغیر
Labels:
Articles
21 October, 2012
حرمت رسول
حرمت
رسول
حرمتِ رسول کا مفہوم اپنے اندر وسیع معانی و
مطالب رکھتا ہے۔ عربی قاموس "تاج العروس" کے مطابق لفظ الحُرمہ ،
الحُرُمہ اور الحَرَمہ کامطلب "ایسی عزت جو اللہ کسی کو عطا کرے اُس کا انکار
گناہ کے زمرے میں آتا ہے اور اُس کو مانا لازم ہے انکارکرنا ارتکابِ حرام ہے"
جمہور کا مذہب ہے کہ کسی عمل کو حرام قرار دینے کے لیے اُس کا نصِ قطعی اور ظنی
الدلالہ سے ثابت ہونا ضروری ہے۔ جب کہ امامِ اعظم کا مذہب یہ ہے کہ اس کے لیے نصِ
قطعی کے ساتھ ساتھ قطعی الدلالہ ہونا بھی ضروری ہے۔ جمہور واجب کو فرض قرار دیتے
ہیں جبکہ امام اعظم کے نزدیک دلیل قطعی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ تب فرض قرار پاتا
ہے۔ اور اُس کا انکار حرام ہے۔ حرمت رسول مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ مفتی محمد ارشدالقادری نے
حرمت رسول کا تحفظ ہر مسلمان کا فرض قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک اجتہاد مسائل کا
ہوتا ہے جیسا کہ یہ عمل فرض ہے واجب ہے یا حلال ہے، مکروہِ تحریمی ہے یا تنزیہی
وغیرہ۔ عقائد میں اجتہاد نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانیں نصِ
قطعی یعنی قرآن(سورۃ فتح کی آیت 8 اور 9 ﴿7﴾ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهدًا
وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ﴿8﴾ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّه وَرَسُولِه وَتُعَزِّرُوه وَتُوَقِّرُوه
وَتُسَبِّحُوه بُكْرَة وَأَصِيلًا ((8) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور
خوشی اور ڈر سناتا (9) تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول
کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو ) ) سے بغیر کسی دلیل کے
ثابت ہے۔ اور اسے فرض نہ ماننا، اور فرض کا انکار کرنا کفر ہے۔
Labels:
Articles
15 October, 2012
حرمت رسول کا تحفظ ہر مسلمان کا فرض ہے: مفتی ارشدالقادری
حرمت رسول کا تحفظ ہر مسلمان کا فرض ہے: مفتی ارشدالقادری
لاہور (پ ر) جامعہ اسلامیہ رضویہ مرکز تعلیم و تربیت اسلامی میں ”حرمت رسول اور اس کے تقاضے“ کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مفتی محمد ارشدالقادری نے کہا کہ حرمت رسول کا تحفظ ہر مسلمان کا فرض ہے۔ انہوں نے گستاخانہ فلم بنانے والے مسلمانوں کے مجرم ہیں ،انہیں سزا دی جائے۔
Labels:
NEWS
14 October, 2012
اجتماع, حرمتِ رسول, حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اُس کے تقاضے, عظمتِ رسول, لاہور, پریس رپورٹ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
۲۶ ذیقعد ۱۴۳۳ بمطابق14 اکتوبر 2012
بروز اتوارکو مرکزِ تعلیم و تربیت جامعہ اسلامیہ رضویہ( شاہ خالد ٹاؤن ،
فیروزوالہ، نزد گورنمنٹ انٹر کالج فیروزوالہ) ایک عظیم الشان تربیتی اور روحانی
اجتماع بعنوان " حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اُس کے تقاضے "ہوا۔
جسے علامہ مفتی محمد ارشد القادری کی زیرِ صدارت تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان نے
منعقد کیا۔اجتماع میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ جس میں ایک کثیر تعداد علماء
اسلام ، ائمہ مساجد اور تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان کے مبلغین کی تھی۔ اس موقع
سب حضرات نے حرمتِ رسول اور عظمتِ رسول کے لیے ہر طرح کی قربانی کا پختہ عزم کیا۔
اور دین کی ترویج و اشاعت کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔ اپنی جان و
مال کی قربانی دینے کا دعویٰ کیا۔ اور دین کے اوامر و نواہی پر عمل پیرا ہونے کے
ارادے باندھے۔
Labels:
Articles
08 October, 2012
Hurmat e Rasool aur us k taqaazay
امریکن فلم ساز کی گستاخی کا جواب دینے کے لیے،
اُمتِ مسلمہ کی وحدت اور قوت
دکھانے کے لیے،
اپنے نبی پاک کی شان سننے کے لیے،
کافروں کے مقابلے میں اپنی
ترقی کا راز جاننے کے لیے،
محبتِ رسول کی شمع سے روشنی پانے کے لیے،
حرمتِ رسول کے تقاضے جاننے
کے لیے،
تشریف لائیں اُس ہستی کے پاس،
تشریف لائیں اُس ہستی کے پاس،
جس نے بتیس سال قوم و ملت کی
فلاح کے لیے اذان دی،
خدمتِ دین میں زندگی گزار دی،
Labels:
Articles
23 September, 2012
13 September, 2012
علامہ مولانا مفتی محمد عبدالحکیم شرف قادری رحمۃ اللہ علیہ
شرف
ملت محسن اہل سنت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالحکیم شرف قادری رحمۃ اللہ
علیہ نے 13 اگست 1944 بمطابق 1364 ہجری کوہندوستان کے ضلع ہوشیار پور کے
ایک گاؤں مرزاپور میں ایک دینی گھرانے میں صوفی نور بخش کے بیٹے مولانا
اللہ دتہ صاحب کے گھر میں آنکھ کھولی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل
کی۔ وہاں شرف صاحب کو مولانا غلام الدین کی صحبت و شفقت میسر رہی۔ بعد ازاں
لائل پور (فیصل آباد) جامعہ رضویہ میں داخلہ لیا۔ وہاں دیگر استاذہ کرام
کے ساتھ ساتھ مہتمم جامعہ محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد قادری چشتی
سے بھی فیض یاب ہوئے۔ آپ نے محدث اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے منطق اور رسالہ
صغریٰ میں کسب فیض کیا۔وہاں آپ رحمۃ اللہ علیہ کے دیگر اساتذہ کرام میں
مولانا حافظ احسان الحق ، مولانا سید منصور شاہ ، مولانا حاجی محمد حنیف،
مولانا حاجی محمد امین اور مولانا محمد عبداللہ رحمھم اللہ علیھم اجمعین
کے مبارک نام شامل ہیں۔
Labels:
Personalities
Subscribe to:
Posts
(
Atom
)












